1

فائرنگ تقریباً 20 منٹ تک جاری رہی اور 60 کے لگ بھگ لوگ زخمی ہوئے۔

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر دو دہشتگرد حملوں میں 49 افراد شہید اور 20 سے زیادہ لوگ شدید زخمی ہوئے ہیں۔عینی شاہد کا کہنا تھا کہ فائرنگ تقریباً 20 منٹ تک جاری رہی اور 60 کے لگ بھگ لوگ زخمی ہوئے۔وزیراعظم وزیر اعظم جاسنڈا آرڈرننے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حملہ آور کے پاس پانچ گنیں تھیں اور ان کے پاس اس کا لائسینس بھی تھا۔حملہ آور برینٹن جس کی عمر 28 برس ہے کو سنیچر کو عدالت میں قتل کے الزامات عائد کیے گئے۔ جبکہ حکام کی تحویل میں دو اور لوگ بھی موجود ہیں۔حملے کے ایک دن بعد کرائسٹ چرچ میں وزیراعظم نے کہا کہ ’گن سے متعلق ہمارا قانون تبدیل کیا جائے گا۔‘انھوں نے بتایا کہ زیر حراست افراد میں سے کسی کا بھی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ملا۔
نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جاسنڈا آرڈرن نے مسجد پر فائرنگ کے واقعے کو دہشتگردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔
پولیس نے ایک شخص جس کی عمر بیس کے پیٹے میں بتائی جاتی ہے، اس پر قتل کا الزام عائد کیا ہے اور اسے کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
ولیس کمیشنر مائیک بُش کے مطابق تین اور افراد میں ایک عورت بھی شامل ہے جن کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد ملا اور وہ حراست میں ہیں۔

پولیس کمشنر نے بتایا حراست میں لیے جانے والے تین افراد میں سے ایک کو رہا کر دیا گیا جبکہ باقی سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔

پولیس کمیشنر مائیک بُش کے مطابق حملے ڈین ایوینیو پر واقع مسجد النور اور لِن ووڈ مسجد میں پیش آئے۔

حملہ آور کون تھا؟
حملہ آور جس نے سر پر لگائے گئے کیمرے کی مدد سے النور مسجد میں نمازیوں پر حملے کو فیس بک پر لائیو دکھایا، اپنے آپ کو اٹھائیس سالہ آسٹریلین برینٹن ٹارنٹ بتایا۔ اس فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کس طرح النور مسجد کے اندر مرد، عورتوں اور بچوں پر اندھادھند فائرنگ کر رہا ہے۔۔

پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس انتہائی دردناک فوٹیج کو فارورڈ کرنے سے گریز کریں۔ پولیس نے حملہ آور کا فیس بک اور انسٹاگرام اکاونٹ کو ختم کر دیا ہے اور وہ اس فوٹیج کو ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں